
فتحیابی کے لیے ٹیکنالوجی اور حکمت عملی میں مہارت ضروری: راجناتھ
ڈاکٹر امبیڈکر نگر، 27 اگست (یو این آئی) وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ جنگوں کی بڑھتی ہوئی پیچیدگی اور موجودہ غیر یقینی صورتحال کے دور میں صرف فوجیوں یا ہتھیاروں کی تعداد ہی کافی نہیں ہے بلکہ جدید ٹیکنالوجی، حکمت عملی اور جنگ کی نوعیت کے مطابق فوری جواب دینے کی صلاحیت رکھنے والی فوجیں ہی اپنی صلاحیت کا لوہا منوا سکیں گی۔انہوں نے ملک اور افواج کو لمبی لڑائیوں کے لیے تیار رہنے اور اس کے لیے مطلوبہ صلاحیت اور وسائل کی دستیابی پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل کی جنگیں صرف ہتھیاروں کی جنگ نہیں ہوں گی بلکہ ان کا انحصار ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس، معیشت اور سفارت کاری کی مشترکہ کوششوں پر ہوگا۔ جو ملک ٹیکنالوجی، حکمت عملی اور جدید رجحان کی موافقت کے مثلث پر عبور حاصل کرے گا وہی حقیقی عالمی طاقت بن کر ابھرے گا۔وزیر دفاع نے کہا کہ سائبر وارفیئر، مصنوعی ذہانت، بغیر پائلٹ کے فضائی گاڑیاں اور سٹیلائٹ پر مبنی نگرانی بھی مستقبل کی جنگوں کی تشکیل میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ بدھ کے روز یہاں آرمی وار کالج میں جنگ، حکمت عملی اور تنازعات پر اپنی نوعیت کے پہلے سہ فریقی سیمینار 'رن سمواد‘ سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر راجناتھ سنگھ نے کہا کہ ٹیکنالوجی اور حیران کن حکمت عملیوں کا گٹھ جوڑ جدید جنگ کی بڑھتی ہوئی پیچیدگی اور غیر یقینی صورتحال کی بنیادی وجہ ہے۔ اختراعات اور غیر متوقع چیلنجوں کے لیے تیار رہنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے، انہوں نے وقت کے ساتھ آگے بڑھتے رہنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کرنے پر بھی زور دیا۔وزیر دفاع نے مستقبل کی جنگوں کی غیر یقینی صورتحال اور بدلتی ہوئی نوعیت پر بات کرتے ہوئے کہا، "جدید جنگیں اب زمین، سمندر اور ہوا تک محدود نہیں رہیں، یہ اب خلاء اور سائبر اسپیس تک پھیل چکی ہیں۔ سٹیلائٹ سسٹم، سٹیلائٹ شکن ہتھیار اور خلائی کمانڈ سینٹر طاقت کے نئے ہتھیار ہیں۔ وہی ملک فتحیاب ہوگا جو ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس، معیشت اور سفارت کاری کی مشترکہ کوشش پر عمل پیرا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ وقت ہے کہ تاریخ سے سبق سیکھ کر نئی تاریخ لکھی جائے، مستقبل کا اندازہ لگایا جائے۔