
نئی دہلی 25 اگست (یواین آئی) ان قیاس آرائیوں کے درمیان کہ کچھ سیاسی جماعتیں اس بل کے لیے تشکیل دی گئی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) میں شامل نہیں ہوں گی جس میں وزیر اعظم، وزرائے اعلیٰ اور وزراء کو ان کی گرفتاری کے بعد ہٹانے کا بندوبست کیا گیا ہے، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے پیر کو واضح کیا کہ اگر کوئی پارٹی جے پی سی کا بائیکاٹ کرتی ہے تو حکومت کے پاس بل کو پاس کرنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہے۔ شاہ نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ بل نہ صرف اپوزیشن کے لیے ہے بلکہ حکمراں پارٹی کے وزرائے اعلیٰ کے لیے بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن یہ کہہ کر عوام کو گمراہ کر رہی ہے کہ حکومت کے لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں ہوتی۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ یہ بل منظور ہو جائے گا۔ وزارت داخلہ نے ایک پریس ریلیز میں کہا کہ شاہ کا ماننا ہے کہ ملک میں کوئی وزیر، وزیر اعلیٰ یا وزیر اعظم جیل میں رہتے ہوئے حکومت نہیں چلا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ 130ویں آئینی ترمیم میں یہ سہولت فراہم کی گئی ہے کہ اگر وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ، حکومت ہند کے وزیر یا ریاستی حکومت کے وزیر کو کسی سنگین الزام میں گرفتار کیا جاتا ہے اور انہیں 30 دن تک ضمانت نہیں ملتی ہے تو انہیں ان کے عہدے سے فارغ کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں منتخب حکومت کی طرف سے لائے گئے کسی بل یا آئینی ترمیم پر اپوزیشن کی طرف سے مخالفت نہیں ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اس بل کو منظور کرنے کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہے اور جب اس پر ووٹنگ ہو گی تو تمام جماعتیں اس پر اپنی رائے دے سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جے پی سی بنانے کے فیصلے کے بعد بھی اگر کوئی پارٹی اس کا بائیکاٹ کرتی ہے تو حکومت کے پاس کوئی آپشن نہیں ہے۔ بل کو اہم بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تمام پارٹیوں کے ممبران سے مشورہ کرنے کے بعد جے پی سی کے سامنے ایک اچھی سوچی سمجھی رائے آنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اپوزیشن کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیتی ہے لیکن اگر اپوزیشن اپنا موقف پیش نہیں کرنا چاہتی تو ملک کے عوام بھی یہ سب دیکھ رہے ہیں۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ ’اگر کسی کی گردن کرپشن میں پھنسی ہے تو اسے گرفتار کیا جائے گا، جیل جانا پڑے گا اور استعفیٰ بھی دینا پڑے گا‘۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ بل پاس ہو جائے گا اور اپوزیشن میں بہت سے لوگ ہوں گے جو اخلاقی بنیادوں پر اس کی حمایت کریں گے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ بل صرف اپوزیشن کے لیے نہیں بلکہ حکمران جماعت کے وزرائے اعلیٰ کے لیے بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن یہ کہہ کر عوام کو گمراہ کر رہی ہے کہ حکومت کے لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ اس میں 30 دن کی ضمانت کی گنجائش ہے اور اگر جھوٹا کیس ہوا تو ملک کی عدالتیں آنکھیں بند کر کے نہیں بیٹھیں گی، کسی بھی صورت میں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کو ضمانت دینے کا حق ہے اور اگر ضمانت نہ دی گئی تو اس شخص کو استعفیٰ دینا پڑے گا، کیا جیل میں رہ کر کوئی وزیر اعلیٰ، وزیر اعظم یا وزیر حکومت چلا سکتا ہے، کیا یہ جمہوریت کیلئے اچھاہے؟ شاہ نے کہا کہ قید کا انتظام ان کی حکومت نے نہیں کیا، یہ برسوں سے موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ 130 ویں آئینی ترمیم سنگین جرم کی وضاحت کرتی ہے کہ جہاں سزا پانچ سال سے زیادہ ہو وہاں اس شخص کو استعفیٰ دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندگی ایکٹ میں یہ شق ہے کہ اگر کسی منتخب نمائندے کو دو سال یا اس سے زیادہ کی سزا ہوئی تو وہ رکن اسمبلی کے عہدے سے فارغ ہو جائے گا۔ شاہ نے کہا کہ آزادی کے بعد سے اب تک کئی لیڈران، وزراء اور وزیر اعلیٰ استعفیٰ دے چکے ہیں اور جیل جاچکے ہیں۔ انہوں نے کہا، "اب یہ ٹرینڈ شروع ہو گیا ہے کہ جیل جانے کے بعد بھی انہوں نے استعفیٰ نہیں دیا، تمل ناڈو کے کچھ وزراء، دہلی کے وزیر اعلیٰ اور وزراء نے استعفیٰ نہیں دیا، کیا حکومت کے سکریٹری، ڈی جی پی، چیف سکریٹری جیل میں ان کے پاس جا کر احکامات حاصل کریں گے؟ اس معاملے پر تشویش اور بحث ہونی چاہیے۔" وزیر داخلہ نے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے خود کو اس آئینی ترمیم کے تحت رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کی اہم اپوزیشن جماعت کی وزیر اعظم 39ویں آئینی ترمیم لائی تھیں جس میں انہوں نے صدر اور نائب صدر کے ساتھ ساتھ خود کو قانونی چارہ جوئی سے باہر رکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ "وزیر اعظم نریندر مودی خود اپنے خلاف آئینی ترمیم لائے ہیں کہ اگر وزیر اعظم بھی جیل گئے تو انہیں استعفیٰ دینا پڑے گا، انہوں نے کہا کہ اس قانون میں عدالت میں کوئی تاخیر نہیں ہوگی کیونکہ عدالت کو فوری مداخلت کرنا پڑے گی۔ اس سے جلد فیصلہ آئے گا کیونکہ ہماری عدالتیں بھی قانون کی سنگینی کو سمجھتی ہیں۔"