جمہوریت میں بامعنی بحث و مباحثہ کا اہم رول: امت شاہ

نئی دہلی، 24 اگست (یو این آئی) مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اتوار کو ایک صحت مند جمہوریت میں بامعنی بحث و مباحثے کے اہم کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عوامی خدشات کو دور کرنے کے لیے غور و فکر بہترین ذریعہ ہے۔دہلی اسمبلی میں منعقدہ 'آل انڈیا اسپیکرز کانفرنس‘ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا، "اگر پارلیمنٹ یا ودھان سبھا میں بحث نہیں ہوں گی  تو یہ عمارتیں بے جان ہو جائیں گی۔"انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایوان کے اسپیکر کی قیادت میں اور تمام اراکین کی فعال شرکت سے یہ ادارے متحرک ہو جاتے ہیں اور قوم اور ریاستوں کے مفادات کی خدمت کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو ایوان  میں تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہے۔ جمہوریت میں علامتی احتجاج کی اپنی جگہ ہے لیکن احتجاج کے نام پر پورے اجلاس میں خلل ڈالنے کا بڑھتا ہوا رجحان تشویشناک ہے۔ مسٹر شاہ نے کہا اپوزیشن کو ایوان میں تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ علامتی احتجاج اپنی جگہ، لیکن احتجاج کا بہانہ بنا کر پورے اجلاس میں خلل ڈالنے کی روایت پیدا کرنا شہریوں اور ان کے منتخب نمائندوں کے لیے تشویشناک ہے۔ کیونکہ جب بحث ختم ہوتی ہے تو قومی ترقی میں ایوان کا حصہ کم ہو جاتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بحث تعمیری بات چیت کے ذریعے ہونی چاہیے، سیاسی فائدے کے لیے کارروائی میں خلل ڈال کر نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 'جب پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کو سیاسی مفادات کی وجہ سے کام کرنے سے روک دیا جائے تو حقیقی بحث نہیں ہوگی۔مرکزی وزیر داخلہ نے مرکزی قانون ساز اسمبلی کے پہلے اسپیکر وٹھل بھائی پٹیل کے تعاون کی بھی تعریف کی اور ہندوستان کی قانون سازی کی روایات اور جمہوری اداروں کی تشکیل میں ان کے مثالی کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا، "اسمبلی کے اسپیکر کا عہدہ انتہائی اہم ہے۔ یہ اسپیکر کی ذمہ داری ہے کہ وہ  اس عہدہ  کے وقار کی حفاظت اور اس کو فروغ دیںانہوں نے کہا کہ "ملک کے لیے آزادی حاصل کرنا اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ آزادی کے بعد ملک کو جمہوری طریقے سے چلانا۔ اور یہ وٹھل بھائی پٹیل ہی تھے جنہوں نے ہندوستانی نظریہ پر مبنی جمہوری طریقوں سے ملک کو چلانے کی بنیاد رکھی۔"بہت سے ہندوستانی آزادی پسندوں اور لیڈروں کا ذکر کرتے ہوئے جنہوں نے اسی ایوان سے ہندوستانی عوام کی امنگوں کو آواز دی، مسٹر شاہ نے کہا، "مہامنا مدن موہن مالویہ سے لے کر گوپال کرشن گوکھلے، لالہ لاجپت رائے اور دیش بندھو چترنجن داس تک، بہت سی عظیم شخصیات نے اس ایوان میں اپنی تقریروں کے ذریعے ہندوستان کی آزادی کی خواہش کا اظہار کیا۔اس وراثت کو برقرار رکھنے کے لیے مسٹر شاہ نے دہلی اسمبلی کے اسپیکر سے درخواست کی کہ ان عظیم شخصیات کی اس ایوان میں کی گئی تمام تقاریر کو مرتب کریں اور انہیں ملک بھر کی تمام ریاستی اسمبلیوں کی لائبریریوں میں دستیاب کرائیں۔ اس سے آج کے نوجوانوں اور قانون سازوں کو یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ اسی ایوان میں آزادی کا جذبہ کیسے بھڑکایا گیا تھا۔" ملک کے جمہوری سفر میں گجرات کے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا، "جب ہم وٹھل بھائی پٹیل کی بات کرتے ہیں، تو ہم گجرات کے لوگ فخر سے کہتے ہیں کہ اس ریاست نے ملک کو دو عظیم انسان دیے ہیں۔ پہلاسردار پٹیل، جنہوں نے تحریک آزادی میں گاندھی جی کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کام کیا، اور دوسرا، وٹھل بھائی پٹیل، جنہوں نے ہندوستان کی روایات کی بنیاد رکھی۔