
اسرو نے کریو ماڈیول کا پہلا ایئر ڈراپ پیراشوٹ ٹیسٹ کامیابی سے مکمل کیا
نئی دہلی، 24 اگست(ایجنسی) دفاعی تحقیق اور ترقی کی تنظیم (ڈی آر ڈی او) نے 23 اگست 2025 کو دوپہر تقریباً 12:30 بجے اڑیسہ کے ساحل کے قریب مربوط فضائی دفاعی ہتھیار نظام (آئی اے ڈی ڈبلیو ایس) کے اولین پرواز کے تجربات کامیابی سے انجام دے دیے۔آئی اے ڈی ڈبلیو ایس ایک کثیر سطحی فضائی دفاعی نظام ہے جس میں مکمل طور پر دیسی تیار کردہ ’’کویِک ری ایکشن سرفیس ٹو ایئر میزائلز(کیو آر ایس اے ایم)‘‘ ، ’’ایڈوانسڈ ویری شارٹ رینج ایئر ڈیفنس سسٹم(وی ایس ایچ او آر اے ڈی ایس)‘‘ میزائلز، اور ایک طاقتور لیزر پر مبنی ’’ڈائریکٹڈ انرجی ویپن(ڈی ای ڈبلیو)‘‘ شامل ہیں۔تمام ہتھیار نظام کے اجزاء کا مربوط آپریشن ایک مرکزی کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے، جسے ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ لیبارٹری نے تیار کیا ہے، جو اس پروگرام کی نوڈل لیبارٹری ہے۔ وی ایس ایچ او آر اے ڈی ایس اور ڈی ای ڈبلیو بالترتیب ریسرچ سینٹر عمارات اینڈ سینٹر فار ہائی انرجی سسٹمز اینڈ سائنسز نے تیار کیے ہیں۔ پرواز کے تجربات کے دوران، تین مختلف اہداف — جن میں دو تیز رفتار فکسڈ وِنگ بغیر پائلٹ فضائی گاڑیاں (یو اے ویز) اور ایک ملٹی کاپٹر ڈرون شامل تھے — کو بیک وقت نشانہ بنایا گیا اور مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔ یہ کارنامہ ’’کویِک ری ایکشن سرفیس ٹو ایئر میزائل(کیو آر ایس اے ایم)‘‘، ’’وی ایس ایچ او آر اے ڈی ایس‘‘، اور ’’ہائی انرجی لیزر ہتھیار نظام‘‘ نے مختلف رینجز اور بلندیوں پر انجام دیا۔ تمام ہتھیار نظام کے اجزاء بشمول میزائل سسٹمز، ڈرون کی کھوج اور تباہی کا نظام، ہتھیاروں کا کمانڈ اینڈ کنٹرول، مواصلاتی نظام اور ریڈارز نے انتہائی عمدگی کے ساتھ کام کیا۔ اس کی تصدیق ’’انٹیگریٹڈ ٹیسٹ رینج، چاندی پور‘‘ میں نصب رینج آلات نے فلائٹ ڈیٹا ریکارڈ کرکے کی۔ گگن یان کے لیے ڈیزائن کیا گیا یہ پیرا شوٹ خلائی جہاز کی رفتار کو کنٹرول کرنے کا ایک سسٹم ہے۔ یہ تجربہ خلائی مسافروں کی زمین پر محفوظ واپسی کے لیے کیا گیا ہے۔ تجربہ کے دوران ہندوستانی فضائیہ، ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (ڈی آر ڈی او)، ہندوستانی بحریہ اور انڈین کوسٹ گارڈ موجود رہے، جو اس مشن کے لیے سب کے اتحاد کو ظاہر کرتا ہے۔واضح ہو کہ یہ پیراشوٹ سسٹم فضا میں دوبارہ داخل ہونے کے بعد کریو ماڈیول کی دوبارہ محفوظ واپسی کے لیے کافی ضروری ہے۔ تجربہ کے دوران ایک ماک ماڈیول کو طیارہ سے چھوڑا گیا اور نئے تیار کردہ پیراشوٹ کو اسمبلی کی مدد سے بحفاظت اتارا گیا، جس سے یہ تجربہ کامیاب رہا۔ اسرو کے افسران کے مطابق ’آئی اے ڈی ٹی-01‘ کا مقصد یہ جانچنا تھا کہ پیراشوٹ کھولنے کا مکمل عمل ٹھیک سے کام کر رہا ہے یا نہیں، جس میں اس کے نتائج، پیراشوٹ کھولنے کا عمل اور پھر بڑا پیراشوٹ کھولنا شامل ہے۔ اس تجربہ میں یقینی بنایا گیا کہ لینڈنگ سے قبل پیراشوٹ رفتار کو بہتر طور سے کم کر رہا ہے یا نہیں۔ اس تجربہ نے اسرو کو یہ یقین دلا دیا کہ ہم کریو کی پرواز کے قریب پہنچ رہے ہیں۔ہندوستان کا گگن یان مشن دسمبر 2025 میں شروع کیا جائے گا، جو زمین کے نچلے مدار میں انسانی مشن کی جانچ میں ہندوستان کی پہلی کوشش ہوگی۔ اس کے بعد سال 2028 میں شروع ہونے والے اس انسان بردار مشن سے ہندوستان خود مختار کریو خلائی پرواز کی صلاحیت حاصل کرنے والا چوتھا ملک بن جائے گا۔ گگن یان کے لیے ڈیزائن کیا گیا یہ پیراشوٹ تین رکنی کریو کو 3 دن تک تقریباً 400 کلومیٹر کے مدار میں لے جانے اور پھر بحفاظت زمین پر واپس لانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔افسران کے مطابق یہ کامیاب تجربہ خلائی مسافروں کی حفاظت کو مضبوط کرتا ہے، جو کہ مشن کی سب سے بڑی ترجیح ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ آئندہ تجربوں میں پیراشوٹ کی مزید جانچ، ضرورت پڑنے پر راکٹ کو لانچ پیڈ سے ہٹانے کی جانچ اور سمندرسے خلائی جہاز کو واپس لانے کی مشقیں شامل ہوں گی، تاکہ مشن کی مکمل تیاری کو یقینی بنایا جا سکے۔ ہندوستان کے خلائی مشن پر پوری دنیا کی نظر ہے اور ’آئی اے ڈی ٹی-01‘ مشن ہندوستان کے لیے ایک بڑی کامیابی تصور کیا جائے گا۔