
نئی دہلی، 23 اگست (یو این آئی) وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے ہفتہ کو ایک نجی ٹیلی ویژن چینل کے پروگرام میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’امریکہ سے کوئی کُٹّی تھوڑی ہی ہوئی ہے!‘امریکہ کے ساتھ تجارتی و سفارتی تعلقات پر گفتگو کے دوران مسٹر جے شنکر نے کہا کہ امریکہ سے بات چیت جاری ہے۔ اس پر سوال پوچھا گیا کہ اب جب امریکہ سے تجارتی مذاکرات کے لیے آنے والا وفد نہیں آ رہا ہے، تو کیا اس کا مطلب ہے کہ تعلقات میں رکاوٹ آ گئی ہے؟ اس پر وزیرِ خارجہ نے کہا، ’کوئی کُٹّی تھوڑی ہی ہوئی ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ وفد کادورہ مؤخر ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہماری گفتگو رک گئی ہے۔مسٹر جے شنکر نے کہا کہ تجارت کے شعبے میں موجودہ مسائل کے باوجود دیگر شعبوں میں امریکہ کے ساتھ تعاون برقرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ تجارت کے معاملے میں ہمارے کسان ’لکشمن ریکھا‘ ہیں۔ اس پر ہم کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اسی طرح اسٹریٹجک خود مختاری کے معاملے میں ہندوستان کی پچھلے پچاس سالوں کی یہی پالیسی رہی ہے کہ پاکستان کے ساتھ مسائل پر کسی تیسرے ملک کی ثالثی منظور نہیں۔ انہوں نے کہا، ’اس وقت جو لوگ ہم پر تنقید کر رہے ہیں ان سے میرا سوال ہے کہ کیا ہم کسانوں کے مفاد کو چھوڑ دیں؟
کیا ہم اپنی اسٹریٹجک خود مختاری کو ترک کر دیں؟‘وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ہندوستان اپنے کسانوں اور حساس شعبوں کے مفادات پر سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔مسٹر جے شنکر سے جب پچھلے ڈھائی دہائی میں امریکہ کے ساتھ بڑھتے تعلقات پر رائے پوچھی گئی تو انہوں نے کہا کہ صدر بل کلنٹن کا ہندوستان دورہ ، صدر جارج ڈبلیو بش کے وقت امریکہ کے ساتھ نیوکلئیر ڈیل اور وزیراعظم نریندر مودی کی 2014 کا امریکہ دورہ ، یہ سب تعلقات کو مضبوط بنانے کی بڑی اہم کڑیاں رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران پاکستان اور چین کے تعلق سے امریکہ کی جی-2 پالیسی جیسے کچھ مسائل ضرور آئے لیکن مجموعی طور پر تعلقات میں مثبت پیش رفت جاری رہی۔ وقت کے ساتھ ثابت ہوا کہ باتیں بہتر ہی ہوئی ہیں۔وزیرِ خارجہ نے کہا، ’ہم بڑے ملک ہیں، ہمارے بہت سے ممالک کے ساتھ تعلقات ہیں، بالآخر مسائل کا حل ہی اہمیت رکھتا ہے۔‘جب یہ پوچھا گیا کہ امریکہ ہندوستان جیسے ایک اسٹریٹجک شراکت دار پر قومی سلامتی کے بہانے ڈیوٹی عائد کر رہا ہے؟ اس پر وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ ڈیوٹی کا اعلان تو دور، امریکہ نے پہلے کبھی عوامی بیانات کے ذریعے خارجہ پالیسی نہیں چلائی۔ مسٹر ٹرمپ اپنے ملک اور دنیا کے ساتھ جس انداز میں برتاؤ کر رہے ہیں وہ بالکل مختلف ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ اس وقت تین اہم مسائل ہیں۔ پہلا مسئلہ دو طرفہ تجارت کا ہے، جس میں ہندوستان نے واضح طورپر کہا ہے کہ ہماری ایک ’لکشمن ریکھا‘ ہے اور ہم اس پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ دوسرا مسئلہ تیل کی خریداری کے ذریعے روس کی فوجی مشینری کی مالی اعانت کے الزام کا ہے، حالانکہ روسی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہندوستان نہیں بلکہ چین ہے۔ روس سے سب سے زیادہ ایل این جی توانائی کی درآمد یورپی یونین کر رہی ہے۔ یورپی یونین کا روس کے ساتھ تجارتی حجم، روس۔ہندوستان کے تجارت سے کہیں زیادہ ہے