
الحیات نیوز سروس
رانچی، 25 اگست: جھارکھنڈ اسمبلی میں پیر کو حکمراں پارٹی اور اپوزیشن ارکان نے اپنے اپنے مطالبات کو لے کر ایوان کے وسط میں زبردست ہنگامہ اور نعرے بازی کی، جس کی وجہ سے وقفہ سوالات نہیں ہو سکا۔گوڈا میں ایک انکاؤنٹر میں سماجی کارکن سوریہ ہانسدا کی موت اور آئین کی 130ویں ترمیم کے معاملے پر اپوزیشن اور حکمراں پارٹی دونوں نے جم کر نعرے لگائے۔ بی جے پی اراکین اسمبلی پمفلٹ لے کر ایوان کے وسط میں پہنچ گئے اور ’ریمس ٹو واپس لو‘ کا نعرہ لگانے لگے۔ ہنگامہ آرائی کے باعث ایوان کی کارروائی پہلی بار12:30بجے تک ملتوی کر دی گئی۔ پیر کو جیسے ہی ایوان کی کارروائی شروع ہوئی، حکمراں پارٹی اور اپوزیشن کے اراکین اسمبلی اپنے اپنے مطالبات لے کر ایوان کے وسط میں پہنچ گئے اور ہنگامہ آرائی شروع کردی۔ اسپیکر رابندر ناتھ مہتو نے دونوں فریقوں سے پرسکون رہنے کی اپیل کی لیکن کسی نے ان کی بات نہیں سنی۔ انہوں نے وقفہ سوالات چلانے کی درخواست کی لیکن ان کی آواز شور میں ڈوب گئی۔ اس کے بعد انہوں نے ایوان کی کارروائی 12:30بجے تک ملتوی کر دی۔ جب ایوان کا اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو پارلیمانی امور کے وزیر رادھا کرشن کشور نے جھارکھنڈ میں مربوط مالیاتی نظام پر ہندوستان کے کمپٹرولر اور آڈیٹر جنرل کی رپورٹ (جھارکھنڈ حکومت کے سال 2025 کی رپورٹ نمبر 1)، 31 مارچ 2024 کو ختم ہونے والے سال کے لیے ریاستی مالیاتی آڈٹ رپورٹ اور مارچ 2023 کو ختم ہونے والی مدت کیلئے ہندوستان کے کمپٹرولر اور آڈیٹر جنرل کی رپورٹ ، جھارکھنڈ حکومت کے سال 25 کی رپورٹ نمبر 3 (کارکردگی اور تعمیل آڈٹ سول) کو ایوان کی میز پر رکھا۔ اس کے بعد وزیر پارلیمانی امور نے ضمنی بجٹ میں شامل گرانٹ کا مطالبہ پیش کیا۔ بعد میں بی جے پی کے ستیندر تیواری نے کٹوتی کی تجویز پیش کی۔ اس کے بعدا سپیکر اسمبلی نے ایوان کی کارروائی دوپہر 2 بجے ، کھانے کے وقفے تک کیلئے ملتوی کر دی۔ بی جے پی ممبران اسمبلی نے ایوان کے باہر دھرنا دیتے ہوئے ریاست میں امن وامان کی بگڑتی صورتحال کا الزام لگایا اور وزیراعلیٰ کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ اپوزیشن لیڈر بابولال مرانڈی نے کہا کہ گوڈا میں چار بار الیکشن لڑنے والے سوریہ ہنسدا کو پولیس نے فرضی انکاؤنٹر میں ماراہے۔ حکومت اس معاملے کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ پورے معاملے کی سی بی آئی سے جانچ ہونی چاہئے۔ دریں اثنا، حکمراں جماعت جے ایم ایم، کانگریس اور آر جے ڈی کے اراکین اسمبلی نے ایوان کے باہر 130ویں آئینی ترمیمی بل کے خلاف احتجاج کیا۔ انہوں نے ”تانا شاہی بند کرو“ اور ”ووٹ چوری کرنا بند کرو“ جیسے نعرے لگائے۔ اپوزیشن نے رانچی کے نگڑی میں ریمس ۔ ٹو کے لیے کسانوں کی زمین زبردستی چھیننے کا الزام بھی لگایا اورایوان کے وسط میں پوسٹر پھاڑ کر پھینکا۔