ووٹر لسٹ میں ہیرا پھیری کا الزام لگانے والے سات دنوں کے اندر ثبوت دیں ورنہ ملک سے معافی مانگیں: الیکشن کمیشن

نئی دہلی، 17 اگست (یو این آئی) الیکشن کمیشن نے لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی سے کہا ہے کہ وہ کرناٹک سمیت مختلف ریاستوں کی ووٹر لسٹ میں بڑے پیمانے پر مبینہ گڑبڑی کے الزامات سے متعلق حلف نامہ کے ساتھ سات دنوں کے اندر ثبوت پیش کریں، بصورت دیگر ملک سے معافی مانگیں۔ چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار نے اتوار کے روز یہاں خصوصی طور پر منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’کوئی یہ الزام لگائے کہ  ووٹر فہرست میں 1.5 لاکھ ووٹروں کے نام فرضی ہیں، تو کیا کمیشن اسے حلف نامہ کے بغیر نوٹس جاری کرے گا اور انہیں سب ڈویژنل آفیسر (ایس ڈی ایم) کے دروازے کا چکر لگانے  پر مجبور کرے گا؟کانگریس لیڈر مسٹر راہل گاندھی کی طرف سے کرناٹک اور مہاراشٹر کی فہرستوں میں گڑبڑی کے الزامات کے بارے میں پوچھے جانے والے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ووٹر لسٹ میں ہیرا پھیری کا الزام سنگین ہے اور کمیشن حلف نامہ کے بغیر ایسے معاملے میں کوئی کارروائی نہیں کر سکتا ہے۔ دونوں  الیکشن کمشنروں ڈاکٹر سکھبیر سنگھ سندھو اور ڈاکٹر وویک جوشی کی موجودگی میں مسٹر گیانیش کمار نے مسٹر راہل گاندھی کے الزامات پر کہا، "سات دنوں میں حلف نامہ دیں، ورنہ ملک سے معافی مانگیں۔ ورنہ یہ سمجھا جائے گا کہ یہ الزامات بے بنیاد ہیں۔" انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق صرف 18 سال کی عمر کے ہندوستانی شہری کو ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہے اور ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے اور حذف کرنے کے لیے واضح قوانین بنائے گئے ہیں جن کی  خلاف ورزی  کوئی نہیں کر سکتا ہے۔ مسٹر گیانیش کمار نے کہا کہ کچھ لوگ الیکشن کمیشن کے کندھے پر بندوق رکھ کر ووٹروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن ووٹروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے چٹان کی طرح کھڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں الیکشن کمیشن کے رجسٹریشن سے بنتی ہیں۔ کمیشن نہ کسی کے حق میں ہو سکتا ہے،  نہ کسی کے خلاف  ہوسکتا ہے۔ کمیشن کے لیے سب برابر ہیں ۔ مہاراشٹر کی ووٹر لسٹ سے متعلق اپوزیشن کے الزامات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال ہونے والے اسمبلی انتخابات سے پہلے فہرست کے مسودے کا سرسری جائزہ لیا گیا تھا اور انتخابات کے وقت ہر امیدوار کو حتمی فہرست دی گئی تھی، لیکن آٹھ ماہ تک کسی نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا اور اب اسے ایشو بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں کوئی حلف نامہ دینے کو بھی تیار نہیں ہے۔ایک سے زیادہ جگہوں پر کسی  ایک ووٹر کی ووٹنگ، ووٹر لسٹ میں پتہ کی جگہ صفر کا نشان لگانے جیسے مسائل پر سوالوں کے جواب میں مسٹر گیانیش کمار نے کہا کہ فہرست میں نام ہونے یا نہ ہونے اور ووٹنگ کا مسئلہ جداگانہ ہے، ان کو آپس میں ملا کر الیکشن کمیشن کے بارے میں کنفیوژن پھیلائی جا رہی ہے۔چیف الیکشن کمشنر نے واضح کیا کہ ایک شخص کا الیکشن میں دو جگہ ووٹ ڈالنا جرم ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا بغیر کسی ثبوت یا حلف نامے کے ایسی باتیں کہہ کر ووٹروں کو  مجرم نہیں کہا جا رہا ہے؟ انہوں نے کہا کہ فہرست میں غلطیاں ممکن ہیں لیکن "ووٹ چوری کا الزام" آئین کی توہین ہے۔گھر کے پتے کی جگہ صفر درج کرنے کے معاملے پر، انہوں نے کہا، "ملک میں بہت سے شہری ایسے ہیں جن کے پاس گھر نہیں ہے۔ وہ کسی پل کے نیچے، لیمپ پوسٹ پر یا  بغیر پتہ والی ایسی جگہ پر رہتے ہیں، وہ ہندوستان کے شہری ہیں اور انہیں ووٹر کے طور پر رجسٹریشن کرنے کا آئینی حق حاصل ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے، کمیشن کے کمپیوٹر سسٹم میں گھر کے پتے کی جگہ صفر درج کیا جاتا ہے۔" انہوں نے کہا کہ کچی بستیوں یا دیہاتوں میں مکانات کے نمبر نہیں ہوتے ہیں اور ان میں رہنے والے لوگوں کے پتے کی جگہ  پر بھی صفر  درج ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گھروں کے پتے کی جگہ صفر لکھنے پر اعتراضات کرنا غریبوں کی توہین ہے۔