سہسرام بہار 17 اگست (یواین آئی) انڈیا اتحاد کے لیڈروں نے لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کی ووٹر ادھیکاریاترا کو’ووٹ چوری‘ کے خلاف تحریک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس یاترا کے ذریعے سب کو متحد ہو کر’ووٹ چوروں‘ کو اقتدار میں آنے سے پوری طاقت سے روکنا ہے۔اتوار کو مسٹر گاندھی کی ووٹرادھیکاریاترا کے آغاز سے پہلے منعقد ایک بہت بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے، انڈیا اتحاد کے لیڈر تیجسوی یادو، دیپانکر بھٹاچاریہ، سوہاسینی علی، مکیش سہنی سمیت کئی دوسرے رہنماوں نے کہا کہ پوری اپوزیشن کو طاقت کے ساتھ عوام کے ووٹ کے حق کو بچانے اور ووٹ کی چوری روکنے کے لیے مل کرکام کرنے کی ضرورت ہے۔قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور راشٹریہ جنتا دل کے تیجسوی یادو نے کہا کہ آئین نے سب کو ووٹ دینے کا حق دیا ہے لیکن ووٹ کے حق پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے اور اتحاد کے لیڈر مل کر ووٹ چھیننے کی اس سازش کو ناکام بنائیں گے اور کسی کو ووٹ چھیننے نہیں دیں گے۔ اقتدار میں بیٹھے لوگ ان کی نقل کر رہے ہیں اور اعلانات کر رہے ہیں۔ جب ہم نے مفت بجلی دینے کی بات کی تو حکومت بھی یہی کہہ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مہاگٹھ بندھن حکومت بنتی ہے تو بہنوں کو ہر ماہ 2500 روپے دیے جائیں گے۔نتیش حکومت پر حملہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ 20 سال سے سو رہے ہیں جب کہ ہم نے 17 ماہ میںچینی مل لگوا دی۔ حکومت کو سبق سکھاناہے اور اسے اقتدار سے باہر کا راستہ دکھانا ہے۔مارکسی کمیونسٹ پارٹی سی پی آئی (ایم ایل) کے دیپانکر بھٹاچاریہ نے کہا کہ یہ صرف یاترا نہیں ہے بلکہ ووٹ چوری کے خلاف تحریک ہے۔ عوام کے حقوق چھیننے کی سازش ہو رہی ہے۔ بہار سے باہر جولوگ کمانے کیلئے باہر جاتے ہیں ان کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کیے جا رہے ہیں اور گجرات سے آنے والے لوگوں کے نام یہاں کی ووٹر لسٹ میں ڈالے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین کی طرف سے غریبوں کو دیا گیا ووٹ کا حق چھیننے کی سازش ہو رہی ہے اور اسے سب کو بچانا ہے۔وی آئی پی پارٹی کے سربراہ مکیش سہنی نے کہا کہ راہل گاندھی کی یہ یاترا جمہوریت کو بچانے کی یاترا ہے۔ ووٹ کا حق آئین میں دیا گیا ہے، اس حق کے تحفظ کے لیے یہ یاترا شروع کی گئی ہے۔ یہاں آنے والے تمام لوگوں کو اپنے ووٹ کی حفاظت کرنی ہے اور اس ریلی سے اس بات کو یقینی بنانے اور اپنے ووٹ کی حفاظت کرکے بہار میں تبدیلی لانے کا عہد کرنا ہے۔بہار اسمبلی میں کانگریس کے رہنما شکیل احمد خان نے کہا کہ یہ تبدیلی کا وقت ہے، عزت دار تبدیلی کی کہانی بہار سے شروع ہو رہی ہے۔چھتیس گڑھ کے سابق وزیر اعلی بھوپیش بگھیل نے کہا کہ جب عوام کے حقوق چھینے جاتے ہیں تو عوام راہل گاندھی کی طرف دیکھتے ہیں۔ راہل جی ایسی یاترا نکال کر عوام کی آواز بنتے ہیں اور ووٹر رادھیکارجیسی یاترا شروع کرتے ہیں۔بہار کے کاراکاٹ سے راشٹریہ جنتا دل کے رکن پارلیمنٹ راجہ رام نے کہا کہ پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس چل رہا ہے لیکن پارلیمنٹ نہیں چل رہی ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ ووٹوں کی چوری کی جارہی ہے اور اپوزیشن اس چوری کے خلاف لڑ رہی ہے۔ سابق ایم پی اور آر جے ڈی لیڈر کانتی سنگھ نے کہا کہ آئین میں لوگوں کو ووٹ کا حق دیا گیا ہے لیکن اس حق کو چھینا جا رہا ہے۔ بی جے پی اور جنتا دل یو خوفزدہ ہیں، اس لیے ایک سازش کے تحت ووٹر لسٹ نظر ثانی کا کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہاگٹھ بندھن حکومت جو کہتی ہے وہ کرتی ہے، اس لیے بہار میں ہر ووٹ کی حفاظت کرنی ہوگی۔کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسی رہنما سہاسنی علی نے کہا کہ آمریت کو شکست دینے کی تحریک بہار سے شروع ہوئی ہے اور اب آئین کو بچانے کا کام بھی بہار سے ہی شروع ہونا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی لیے ووٹرادھیکار یاترا کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ اب بہار کے عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ بہار کے آئین کی حفاظت کریں جن کے ووٹ کاٹے گئے ہیں۔اتر پردیش کانگریس کے صدر اجے رائے نے کہا کہ بہار کی سرزمین شروع سے ہی تبدیلی کی سرزمین رہی ہے، یہیں سے تبدیلی آتی رہی ہے، اسی لیے مسٹر گاندھی نے اپنی یاترا کے لیے بہار کی سرزمین کا انتخاب کیا ہے۔ بہار سے پورے ملک کو تبدیلی کا پیغام دینا ہے تو بہار سے تبدیلی لانی ہوگی۔این ایس یو آئی کے انچارج کنہیا کمار نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت میں سب کو ووٹ ڈالنے کا یکساں حق حاصل ہے اس لیے ہر کسی کے ووٹ کا حق محفوظ ہونا چاہیے۔ انتظامیہ کو غریبوں اور دلتوں کے حقوق کو دبانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اگر مہاگٹھ بندھن حکومت بنتی ہے تو بہار میں خواتین کو ہر ماہ 2500 روپے دیئے جائیں گے۔ سب کی خوشحالی کے لیے ضروری ہے کہ سب کے ووٹ کی حفاظت کی جائے۔یوتھ کانگریس کے صدر ادے بھان چب نے کہا کہ راہل گاندھی کا یہ سفر تاریخ کے ایک نئے باب کا آغاز ہے۔ کانگریس نے آزادی کی جنگ لڑی اور ملک کے لوگوں کو ووٹ کا حق ملا، جسے ختم کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔
