کٹھوعہ میں بادل پھٹنے سے 7افراد کی موت، کئی زخمی، بچاؤ آپریشن جاری

جموں، 17 اگست (یو این آئی) جموں وکشمیر کے ضلع کٹھوعہ کے ایک دور افتادہ راج باغ گھاٹی علاقے میں دوران شب ہوئی تیز بارشوں کے نتیجے میں آنے والے فلش فلڈ سے کم سے کم 7افراد کی موت جبکہ کئی دیگر زخمی ہوئے ہیں۔حکام نے بتایا کہ کٹھوعہ ضلع میں بھاری شبانہ بارشوں کے نتیجے میں اتوار کی صبح سیلابی ریلے آئے۔اطلاعات کے مطابق اس واقعے کے نتیجے میں 5 افراد کی موت واقع ہوئی ہے جبکہ کئی دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا: 'گھاٹی کے پہاڑی علاقوں میں بادل پھٹنے کے واقعے پیش آنے کی بھی اطلاع ہے اور بھاری بارشوں کے نتیجے میں آنے والے فلش فلڈ سے مکانوں اور دوسرے تعمیراتی ڈھانچوں کو نقصان پہنچا ہے۔حکام نے بتایا کہ جنگلوٹ اور اس کے ملحقہ علاقوں میں ریلوے ٹریک اور نیشنل ہائی وے کو بھی نقصان پہنچا ہے۔انہوں نے کہا کہ اولڈ سٹی کٹھوعہ کی سڑکیں زیر آب ہیں اور مکانوں میں بھی پانی گھس گیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ فوج، پولیس، ایس ڈی آر ایف اور سول انتظامیہ نے وسیع پیمانے پر بچائو آپریشن شروع کر دیا ہے۔ حکام نے بتایا کہ زخمیوں کو نکال کر ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے اور ان کو نکالنے کے لئے ہلی کاپٹر سروس بھی طلب کی گئی ہے۔زخمیوں کی شناخت 26 سالہ کروم بیگم، 4 سالہ رافیہ بیگم، 6 سالہ عرشیہ بیگم، 8 سالہ پروین اختر، 26 سالہ گگلی بیگم اور 3 ماہ کی نگینہ کے طور پر ہوئی ہے۔ مرکزی وزیر ڈاکٹر جیتندر سنگھ نے 'ایکس‘ پر اپنے ایک پوسٹ میں کہا: 'کٹھوعہ کے جنگلوت علاقے میں بادل پھٹنے کے واقعے کی خبر موصول ہونے کے بعد ایس ایس پی کھٹوعہ شوبھت سکسینہ سے بات کی۔انہوں نے کہا: '4 ہلاکتوں کی اطلاع ہے اس کے علاوہ ریلوے ٹریک، نیشنل ہائی وے کو نقصان پہنچا ہے جبکہ پولیس اسٹیشن کٹھوعہ بھی متاثر ہوا ہے۔مرکزی وزیر نے کہا کہ سول انتظامیہ، فوج اور نیم فوجی دستے بچائو کارروائیوں میں لگے ہوئے ہیں اورصورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔انہوں نے سوگوار کنبوں کے ساتھ تعزیت کی۔دریں اثنا جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کٹھوعہ واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔