کشتواڑ میں بادل پھٹنے سے 52 افراد ہلاک

درجنوں ہنوز لاپتہ، فوج نے 
سنبھالی راحت و بچاو کی کمان
جموں،14اگست(یو این آئی) جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے دور افتادہ گاؤں چسوتی میں جمعرات کی دوپہر بادل پھٹنے کے المناک سانحے نے کہرام مچا دیا۔ اس قدرتی آفت میں تاحال 52 افراد ہلاک جبکہ 100 سے زائد زخمی مختلف اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔یہ حادثہ دوپہر 12 سے ایک بجے کے درمیان پیش آیا، جب ہزاروں عقیدت مند میچل ماتا یاترا کے لئے چسوتی گاوں میں جمع تھے۔ اچانک آسمان سے اترنے والے بادل نے گاؤں کو ملبے اور مٹی کی سنامی میں بدل دیا، جس سے مکانات، دکانیں اور یاتری شیلٹر لمحوں میں تباہ ہو گئے۔مقامی عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ بادل پھٹنے کے بعد پانی، مٹی اور پتھروں کا ریلا اس قدر تیز تھا کہ سیکنڈوں میں پوری بستی بہہ گئی۔ ایک یاتری نے بتایا، ’ہم مندر کی طرف بڑھ رہے تھے کہ اچانک چیخ و پکار سنائی دی، اور ہم نے دیکھا سب کچھ پانی میں ڈوب رہا ہے۔‘سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ کئی لوگ ابھی بھی لاپتہ ہیں اور ملبے کے نیچے دبے ہونے کا اندیشہ ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق، پانی، مٹی اور پتھروں کا ریلا اتنا تیز تھا کہ لوگ سنبھلنے کا موقع بھی نہ پا سکے۔ لنگر، دکانیں، سیکورٹی پوسٹ اور کئی عارضی ڈھانچے لمحوں میں زمین بوس ہو گئے۔ڈپٹی کمشنر کشتواڑ پنکج کمار شرما کے مطابق، 100 سے زیادہ زخمیوں کو آتھولی سب ڈسٹرکٹ اسپتال منتقل کیا گیا، جن میں سے تقریباً 35 کو کشتواڑ ضلع اسپتال ریفر کیا گیا ہے۔راحت و بچاؤ کے لیے این ڈی آر ایف، ایس ڈی آر ایف، فوج، پولیس اور مقامی رضاکار سرگرم ہیں، تاہم ریسکیو میں دشواری پیش آ رہی ہے کیونکہ متاثرہ مقام تک جانے والی سڑک بہہ چکی ہے اور خراب موسم ہیلی کاپٹر پروازوں کے لیے موزوں نہیں۔وزیر اعظم نریندر مودی نے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور کہا کہ صورتِ حال پر قریبی نظر رکھی جا رہی ہے، جبکہ ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی۔
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے رابطہ کیا اور یقین دہانی کرائی کہ این ڈی آر ایف کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ رہی ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے اپنے پیغام میں متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کرتے ہوئے سول و پولیس حکام، فوج، این ڈی آر ایف اور ایس ڈی آر ایف کو ہدایت دی کہ ریسکیو اور ریلیف آپریشن میں مزید تیزی لائی جائے۔